پٹنہ 13/ نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) ناراض عوام کی ایک بھیڑ نے یہاں اتوار کو بہار کے گوپال گنج ضلع میں بینک کی گیٹ کا تالہ توڑ کر بینک کے کمپائونڈ میں گھس گئے ۔ پولس ذرائع کے مطابق عوام اُس وقت برہم ہوگئے جب اُنہیں بینک کے عملہ کی طرف سے کہا گیا کہ بینک میں نقد رقم ختم ہوگئی ہے۔ بتایا گیاہے کہ عوام صبح کی اولین ساعتوں سے بینک کے باہر قطارلگائے اپنی باری کے انتظار میں تھے کہ وہ بڑے نوٹوں کے بدلے چھوٹے نوٹ حاصل کرسکیں۔ مگر نوٹ نہ ملنے کے سبب اُن کا صبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق لوگ بے قابو ہوکربینک کا تالا توڑتے ہوئے بینک کے اندرگھس گئے. جس سے بینک کے باہر بھگدڑ مچ گئی.اور بھگڈر میں درجنوں خواتین زخمی ہو گئیں.
پنجاب نیشنل بینک کے میر گنج میں یہ واردات پیش آئی. جہاں بھیڑ بے قابو ہو گئی اور بھگدڑ کی وجہ سے قطار میں کھڑی درجنوں خواتین زخمی ہو گئیں.اس موقع پرعوام پر قابو پانے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔ جس سے دیگرلوگ بھی زخمی ہوگئے.
عوام نے بینک میں رقم نہ ہونے کو لے کرسخت احتجاج کیا اور مناسب انتظآم کئے بغیر بڑے نوٹوں کو بند کرنے پرسخت ناراضگی ظاہر کی، جبکہ بینک میں رقم کی سپلائی کا مناسب انتظآم نہ ہونے پر عملہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
بہار کے چمپارن ضلع کے نرگٹیا گنج میں بھی ایک بینک کے باہر رقم بدلوانے کے لئے آئے ہوئے لوگوں میں بھی اُس وقت بھگڈر مچ گئی جب دو گروپ آپس میں لڑپڑے۔ بتایا گیا ہے کہ جھڑپ اُس وقت شروع ہوئی جب لمبی قطاروں میں موجود لوگوں میں سے کچھ لوگ قریب میں واقع ایک نالے میں گرگئے۔
بہار کے اورنگ آباد، پٹنہ، گیا، مظفر پور، سیتامرواہی، مدھوبنی، بھاگلپور اور کھگاریا ضلع میں بھی رقم بدلوانے کے دوران جھڑپوں اور بھگڈر مچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سمجھا جارہا ہے کہ رقم حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی جھڑپیں مزید کچھ دنوں تک ہوں گی کیونکہ دفتری ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست بہار کے قریب پانچ فیصد اے ٹی ایم کام نہیں کررہے ہیں، جس سے لوگوں کو دقت ہورہی ہے۔
(آئی۔ای/آئی اے این ایس/کے این ایس)